سپہر ڈھل رہی تھی۔ کافی دیر تک ڈھلتی سپہر کو محض ہوا کی سائیں سائیں سنائی دے رہی تھی۔ اور وہ گہری سوچ میں گم کھڑکی کے اُس پار نظر آنے والے چاند کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی، اس بات سے انجان کہ چولہے پہ رکھی چاۓ اُبلنے کو تیار تھی ۔
"آج چاند دیکھا"؟
اِس کے کانوں میں اُس کی آواز گونجی۔
"رونا بند کرو، جاؤ اور جا کر چاند دیکھ کر آؤ، میں یہیں ہوں وانیہ۔"
"وعدہ کرتا ہوں میں واپس آؤں گا۔"
"تم مجھے بھول مت جانا۔"
"میرا انتظار کرنا۔"
"انتظار کرنا، انتظار کرنا۔"
اُس کے یہی الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔
"انتظار، ایک لمبا انتظار۔۔۔۔۔۔ شاید انتظار ہی اُس کی قسمت میں لکھا جا چکا تھا۔"
"اللہ اللہ! یہ کیا کر دیا، پاگل لڑکی؟ ایک کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا تم سے دو کپ چائے بنانے کا کہا تھا اور تم نے دیکھو کیا کر دیا۔ دھیان کہاں ہے تمہارا؟"
اس کی خالہ غصے سے چولہا بند کرتے ہوئے چلائی۔
"ہاں کیا ہوا؟ اوہ سوری، میرا دھیان نہیں تھا۔"
وہ بوکھلا سی گئی۔ اور چولہے پر گری ہوئی چاۓ دیکھنے لگی۔
"تمہارا دھیان ہوتا ہی کہاں ہے؟ میری سُنتی ہی کب ہو تم؟"
وہ غصّے سے بولیں۔
"خالہ، میں صاف کر دیتی ہوں، تم جاؤ۔"
وہ اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے بولی،جیسے وہ کچھ ڈھونڈ رہی ہو، شاید شیلف صاف کرنے والا کپڑا۔
"تم؟ پھر سے تم؟ خبردار! جو آئندہ مجھے "تم" کہہ کر مخاطب کیا تو!"
وہ مزید غصہ ہوئیں۔ اور انگلی کے اشارے سے اسے خبردار کیا۔
"میں تو ایسے ہی بات کروں گی۔ تم جو مرضی کر لو"
وہ شانے اچکاتے ہوۓ بےنیازی سے بولی۔
"ہاں ہاں" پتا ہے، تم بہت ڈھیٹ ہو۔"
"وہ تو میں ہوں"
وہ بات کاٹتے ہوئے بولی۔
"اب باتیں کم کرو اور جلدی سے چاۓ بناؤ۔ زبیدہ کب سے انتظار کر رہی ہے۔ اور ہاں۔۔۔۔"
وہ جانے کے لئے مُڑی ہی تھیں کہ پھر سے پلٹی۔
"ذرا تمیز سے چاۓ لے کر آنا، اور سلیقے سے اُسے سلام کرنا۔"
اتنا کہہ کر وہ باہر چلی گئیں۔
"ہاۓ انتظار۔۔۔۔۔۔"
وہ سر جھٹک کر دوبارہ چاۓ بنانے لگی۔
***
66Please respect copyright.PENANAkk2hGeZtn4
"ارے! تم پھر سے آگئی؟" وہ چاۓ کی ٹرے لے کر باہر نکلی ہی تھی کہ سامنے مائرہ کو کھڑا پایا۔
"کیوں میں نہیں آسکتی یہاں؟"
اس نے شکوہ کیا۔
"آسکتی ہو ضرور آسکتی ہو، لیکن وقت دیکھ کر۔ یہ شریفوں کا محلّہ ہے، اچھا تھوڑی لگتا ہے کہ جوان جہان لڑکی رات کے اس پہر کسی کے گھر جاۓ۔"
وہ شرارتی انداز میں بولی۔
"ارے واہ کیا بات ہے آج تو اپنی خالہ کی زبان بول رہی ہو تم۔"
وہ ہنستے ہوئے بولی۔
"بس پھر دیکھ لو اثر ہو رہا ہے خالہ کا۔"
وہ پھر سے مسکرائی تھی۔
"اب ساری باتیں یہیں کھڑے ہو کر کرو گی یا مجھے بیٹھنے کا بھی بولو گی؟"
اس نے جیسے شکوہ کیا۔
"تم میرے کمرے میں چلو، فی الحال خالہ کے پاس بھی ایک جوان جہان لڑکی بیٹھی ہے، میں اُسے رخصت کر کے آتی ہوں۔"
وہ ٹرے لے کر لان کی طرف چل دی۔ جواباََ مائرہ سر جھٹک کر ہنس دی۔
66Please respect copyright.PENANAjrfneJ4Gkc
***
66Please respect copyright.PENANApXf0LtITNV
راہداری سے ہوتی ہوئی وہ لان میں گئ تو رضیہ خالہ اور زبیدہ خالہ خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔
"آدھی رات ہو گئی اور پتہ نہیں ان کی ایسی کون سی باتیں ہیں جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔"
وہ بڑبڑائی۔
"چاۓ۔۔۔۔۔۔۔"
بمشکل مسکراتے ہوئے اس نے اشارے سے دونوں ہاتھوں میں تھامی ہوئی چاۓ کی ٹرے لہرائی اور نیچے بیٹھ کر اسے ٹیبل پر رکھنے لگی۔
"بھابی! مجھے لگتا ہے آپ نے اسے یہ نہیں بتایا کہ گھر آۓ مہمانوں کو سلام بھی کرتے ہیں؟"
"مہمان؟ مہمان ہیں آپ؟"
"ہاں، کیوں؟ میں اس گھر کی فرد ہوں کیا؟"
وہ عورت تو سادہ سی تھیں مگر زبان کی بہت تیز تھیں۔
"مگر مہمان تو کبھی کبھار آتے ہیں، آپ تو روز ہمارے گھر آ جاتی ہیں۔"
وہ چاۓ کی پیالی ان کے آگے رکھتے ہوۓ بولی۔
"وانیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
خالہ تقریباً چلائی تھیں، اور یہی ڈر اُسے بھی تھا۔ اب بس اُن کے جانے کی دیر تھی، اور وانیہ جانتی تھی کہ وہ اُس کے ساتھ کیسے پیش آئیں گی۔ اِس نے ایک نظر اپنی خالہ کو دیکھا اور پھر سامنے والی کُرسی پر بیٹھی اپنی خالہ کی سہیلی کو، جو نہایت اطمینان سے ٹانگ پر ٹانگ جماۓ اسے سر سے پاؤں تک بہت غور سے دیکھ رہی تھیں۔
وانیہ جو کہ اس وقت سادہ سے سرخ شلوار قمیض میں ملبوس تھی، گھٹنوں تک آتی قمیض اور اُس پر گولڈن لیس، گلے میں سرخ رنگ کا دوپٹہ جس کے کناروں پر باریک گولڈن لیس تھی، کندھوں تک آتے سیدھے بال جنہیں وہ ہمیشہ کھلا ہی رکھتی تھی۔ اور رنگت سفید۔
"اب یہ کیوں گھور رہی ہیں مجھے؟"
وہ بڑبڑائی۔
"کیا بات ہے خالہ، نظر لگانی ہے؟"
وہ طنزیہ مسکراتے ہوئے بولی۔
"حد ہے ویسے!"
انہوں نے جیسے افسوس سے سر جھٹکا۔
"اور کچھ چاہیئے تو نہیں خالہ؟"
وہ مسکراتے ہوئے اپنی خالہ سے مخاطب ہوئی۔
اس کی خالہ، جو شرمندگی سے سر جھکائے بیٹھی تھیں،
"نفی میں سر ہلا دیا۔"
ذرا بھی تمیز نہیں ہے اس لڑکی میں! بھابی کل کو اپنے سسرال جاۓ گی تو کیا کرے گی یہ؟
وہ جانے کے لیے مڑی ہی تھی کہ زبیدہ بیگم کی بات پر پھر سے پلٹی۔
"چاۓ پی لیجیے، ٹھنڈی ہو رہی ہے۔"
وہ سنجیدگی سے چاۓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔ اور ایک نظر اپنی خالہ کو دیکھا، جو کہ ادھیڑ عمر کی خاتون تھیں، سادہ سی آف وائٹ شلوار قمیض میں ملبوس، ہاتھ میں تسبیح پکڑے سر جھکائے بیٹھی تھیں۔
"کاش مجھے تمہارا لحاظ نہ ہوتا، خالہ! تو میں زبیدہ خالہ کو بتاتی۔"
اس نے دل ہی دل میں سوچا۔
66Please respect copyright.PENANAKk5gajN2Bg
***
66Please respect copyright.PENANA1ZWpuHYthF
"چلو بھئی، اٹھو اور اپنے گھر جاؤ۔ روز روز یہاں آنے کی ضرورت نہیں ہے، ہم کالج میں روز ملتے ہیں نا۔"
وہ پَیر کی ٹھوکر سے دروازہ کھولتے ہوئے بولی، جس سے بیس پر لیٹی ہوئی وانیہ جھٹ سے اُٹھ کر بیٹھ گئی۔
"کیا ہو گیا، وانیہ؟ اتنے غصے میں کیوں ہو؟"
وہ سنجیدگی سے بولی۔
"تم جاؤ گی یہاں سے؟ کتنی بار کہا ہے کہ رات کو یہاں مت آیا کرو۔"
وہ بگڑ کر بولی۔
"اچھا میں چلی جاتی ہوں، پر بتاؤ تو سہی، ہوا کیا ہے؟"
وہ اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
مائرہ اس کے بچپن کی بہترین سہیلی تھی۔ وہ اپنی ہر بات اس کے ساتھ شئیر کرتی تھی۔ اِسکی رنگت سانولی مگر نقش خوبصورت تھے۔ وہ بہت نفیس سی لڑکی تھی۔ آسمانی رنگ کی قمیض اور جینز میں ملبوس، دوپٹہ مفلر کے انداز میں گلے میں ڈالے، وہ اب بیڈ پر ٹانگ پر ٹانگ جماۓ بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی۔
"تم ایسے نہیں مانو گی۔"
وہ اس کے قریب جا کر اسے بازو سے پکڑتے ہوئے بولی۔
"اٹھو اور گھر جاؤ،کل ملیں گے۔ پلیز، میں اِس وقت پہلے ہی پریشان ہوں۔"
"ارے، یہ کیا بدتمیزی ہے؟ پاگل ہو تم؟ یہ تم کیسے نکال رہی ہو مجھے؟ ایٹ لیسٹ مجھے بتاؤ تو ۔۔۔۔۔۔"
بات کٹ گئی تھی۔ دروازہ بند ہو چکا تھا اور وہ کمرے سے نکال دی گئی تھی۔ وہ خالی خالی نظروں سے بند دروازے کو دیکھتی رہ گئی۔
"ایڈیٹ!"
اس نے زور سے اپنا سیاہ ہینڈ بیگ دروازے پر دے مارا۔
"بہت ہی بدتمیز ہو تم، وانیہ! بہت ہی بدتمیز ۔"
وہ بڑبڑاتی ہوئی جا چکی تھی۔
یہ اندازہ وانیہ کو تب ہوا جب اُس کے قدموں کی چاپ سنائی دینا بند ہو گئی تھی۔
***
"صرف دو سال، وانیہ۔ تم کیا دو سال میرا انتظار نہیں کر سکتی؟"
اس کی آواز پھر سے اس کے کانوں میں گونجی تھی۔
"مگر خالہ۔۔۔۔۔۔ وہ؟ اُن کا کیا؟ اور میں کیا کروں گی آپ کے بغیر؟ کیسے رہوں گی میں؟ اور اگر آپ بھول گئے تو؟ آپ واپس آۓ اور آپ کو کچھ بھی یاد نہ ہوا تو؟"
پھر سے وہی ڈر، دھڑکن تیز ہوئی تھی، پسینہ آنے لگا تھا۔ آنکھوں کے آگے پھر سے وہی منظر دھندلا رہا تھا۔
سیڑھیوں پر بیٹھی وانیہ، اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے، وہ بچوں کی طرح رو رہی تھی۔
"میں آپ کا انتظار کروں گی، لیکن آپ بھول جائیں گے۔ میں جانتی ہوں۔"
پھر سے دو آنسو ٹوٹ کر اس کے گالوں پر گرے۔
"ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں، وانیہ۔ میں واپس آؤں گا، اور دیکھنا، تمہاری ساری باتیں جھوٹی ثابت کروں گا۔"
وہ فاتحانہ انداز میں بولا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔
"میں کبھی کال تو کر سکتی ہوں نا؟"
اُس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
"یہ بھی بھلا کوئی پوچھنے کی بات ہے؟"
چہرے پر ڈھیر سارا اطمینان لیے وہ اس کے سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا، جبکہ اس سے دو سیڑھیوں کے فاصلے پر ڈری سہمی سی بیٹھی وہ بے بسی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
"پریشان مت ہو۔"
اس نے جھک کر اس کا ہاتھ پکڑا، اپنے چہرے کے قریب لے جا کر اسے چوما۔
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ دھڑکن مزید تیز ہو گئی تھی، گرمی بھی بڑھتی ہی جا رہی تھی۔
آخری بار اس کا ہاتھ ہلا کر اسے"خدا حافظ" کہنا اور پھر سے اُس کا وہ مسکراتا ہوا چہرہ۔۔۔۔۔۔۔
"مت جاؤ۔۔۔۔۔۔۔پلیز!"
وہ جھٹکے سے اُٹھ بیٹھی۔ نیند ٹوٹ چکی تھی، آنکھیں کُھل چکی تھیں۔
پر خواب، جو کبھی حقیقت تھا، اب ہر روز خواب بن کر کیوں آتا تھا؟
"اللہ جی۔۔۔۔۔ پھر سے وہی خواب!"
وہ ماتھے پر آیا ہوا پسینہ صاف کرتے ہوئے بولی۔
ناجانے رات سوچتے سوچتے کب اُسکی آنکھ لگی تھی، اُسے کچھ یاد نہیں تھا۔
"اللہ جی۔۔۔۔۔۔ پلیز، مجھے یہ خواب نہ آیا کرے۔ جو ہونا تھا، وہ تو ہو چکا۔۔۔۔۔"
روز کا یہی خواب، اور روز کا یہی افسوس۔۔۔۔
کمرے میں اندھیرا تھا۔ اس نے ذرا ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا لیمپ آن کیا۔ جس سے کمرہ نیم روشن ہو گیا۔دیوار پر لگی ہوئی گھڑی پر نظر ڈالی۔ رات کے دو بج رہے تھے۔
پھر ایک نظر اپنے کمرے پر ڈالی۔ سادہ سا کمرہ تھا۔ بیڈ کے دونوں طرف سائیڈ ٹیبلز، سامنے ڈریسنگ ٹیبل، دیوار میں ایک سادہ سی لکڑی کی بنی کپڑوں والی الماری، دیوار کے ساتھ دو کرسیاں اور اُن کے درمیان میں ایک چھوٹی سی میز رکھی تھی۔ کچھ فاصلے پر واش روم کا دروازہ تھا۔
البتہ دیواروں پر اُس کے بچپن کی چند تصاویر اور کچھ کالج کے دنوں کی یادگار تصاویر آویزاں تھیں۔ کمرہ نہ زیادہ بڑا تھا، نہ ہی زیادہ چھوٹا، مگر وانیہ کو بے حد پسند تھا۔
کچھ دیر یونہی وہ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھی رہی۔ پھر کچھ سوچ کر اُٹھی، الماری کھولی، لاکر سے بُھورے رنگ کی ڈبیا نکالی اور واپس آکر بیڈ پر بیٹھ گئی۔
دونوں ہاتھوں میں وہ ڈبیا لیے نجانے کتنی دیر تک اُسے دیکھتی رہی اور سوچتی رہی۔
"میرا انتظار کرنا۔۔۔۔"
پھر سے وہی الفاظ اس کے کانوں میں گونجے تھے۔ دھڑکن ایک بار پھر تیز ہو گئی۔ اس نے گہرا سانس لیا، اُٹھی اور ڈبیا واپس رکھ دی۔
اس کا حلق خشک ہو رہا تھا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا پانی کا جگ دیکھا، مگر وہ خالی تھا۔ وہ جگ اٹھا کر کچن کی طرف چل دی۔
سیڑھیاں اترنے ہوۓ اس کی نظر لاؤنج میں رکھے فون پر پڑی۔ اس نے اِدھر اُدھر نظر گھمائی۔ گھر میں مکمل خاموشی تھی۔
یہ مناسب سا گھر تھا، نہ زیادہ بڑا اور نہ ہی زیادہ چھوٹا، مگر اتنا ضرور تھا کہ وانیہ اور اس کی خالہ سکون سے رہ سکیں۔
اس کی خالہ کا ایک بیٹا تھا، جو پچھلے سات سالوں سے آسٹریلیا میں ہی مقیم تھا۔ اُس کے واپس آنے کا کچھ معلوم نہ تھا۔ وہ ہر مہینے پیسے بھیج دیتا اور ہفتے میں ایک بار اپنی ماں کو فون کر لیا کرتا تھا۔
وانیہ بچپن سے ہی اپنی خالہ کے ساتھ، اُنہی کے گھر میں رہتی آئی تھی۔ جب بھی وہ اپنے ماں باپ کے بارے میں کچھ پوچھتی، خالہ اس سے نظریں چرا لیتیں۔ آخر ایک دن تنگ آکر اُنہوں نے کہہ دیا تھا،
" تمہارے پیدا ہوتے ہی تمہاری ماں کا انتقال ہو گیا تھا، اور اُس کے دو سال بعد تمہارے والد بھی دنیا سے چلے گئے تھے۔"
بس اس کے بعد وانیہ نے کبھی کوئی ایسا سوال نہیں کیا۔
اس کی خالہ دل کی بہت اچھی تھیں، دونوں میں پیار بھی بہت تھا، مگر وانیہ کے معاملے میں اکثر جلد بازی سے کام لے لیتی تھیں۔ اس کے باوجود نہ وانیہ کو اپنی خالہ سے کوئی گلہ تھا، نہ خالہ کو وانیہ سے۔ یوں دونوں ایک ہی گھر میں محبت اور سکون سے رہتی تھیں۔
"تم جب چاہو مجھے کال کر سکتی ہو۔۔۔۔۔۔"
ماضی کی وہی یاد پھر ذہن میں ابھری۔ اس نے سر جھٹک دیا۔
کچھ سوچ کر وہ فون کے پاس آئی، قریب رکھی میز پر خالی جگ رکھا اور گھٹنوں بل زمین پر بیٹھ کر ایک نمبر ملایا۔
جوں جوں گھنٹی بج رہی تھی, ویسے ویسے اس کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی۔
"ہیلو۔۔۔۔"
دوسری طرف سے آواز آئی۔
وانیہ کا ریسیور تھاما ہاتھ ہلکا سا کانپا تھا۔ اس نے آنکھیں موند لیں۔ دھڑکن مزید تیز ہو گئی۔
"ہیلو۔۔۔۔۔۔۔!!"
مگر وہ خاموش رہی۔
"کوئی بولے گا بھی یا نہیں؟"
اِس بار دوسری طرف سے جھنجھلاہٹ بھری آواز آئی۔
وہ پھر بھی خاموش رہی۔ ایک آنسو ٹوٹ کر اس کے گال پر لڑھک گیا۔
"جب بولنا نہیں ہوتا تو کال کیوں کرتی ہو؟"
اس کے لہجے میں اب بھی وہی تلخی تھی۔
"تا۔۔۔۔۔۔"
"میں مصروف ہوں۔ کوشش کیا کرو مجھے کال مت کیا کرو۔"
وہ بات کاٹتے ہوئے بولا۔
وہ بغیر کوئی جواب دیے، حیرت سے ریسیور کو دیکھتی رہ گئی۔ آنکھوں میں حیرت بھی تھی اور شکوہ بھی۔ ناجانے کتنی ہی دیر وہ خاموشی سے آنسو بہاتی رہی۔
"جھوٹ۔۔۔۔ سب جھوٹ تھا۔۔۔۔۔"
وہ آنسو صاف کرتی ہوئی اُٹھی اور اپنے کمرے کی طرف چل دی۔
خالی جگ وہیں میز پر پڑا رہ گیا، بالکل اُس کے دل کی طرح۔
***
جاری ہے۔۔۔
66Please respect copyright.PENANALWbCMeHy5O
66Please respect copyright.PENANACHIToJFRvi
66Please respect copyright.PENANAahOc3nB8Ss
66Please respect copyright.PENANA19jHQg3qkV
66Please respect copyright.PENANAwKwBjncQUR
66Please respect copyright.PENANAuGr2pQuZuL
66Please respect copyright.PENANAmu2X7l8d81


