7Please respect copyright.PENANAEUOkxWwj1hناول : ٹیچر
قسط : 01
رائٹر : علی
7Please respect copyright.PENANAiDpaqFPkHh
میرا نام پوجا ہے، میرے بتیس سالہ اس بھرپور اور پختہ جسم کے اندر ایک ایسا طوفان پل رہا ہے جس کا اندازہ کالج کے اس علمی ماحول میں کسی کو نہیں ہو سکتا۔ میں دہلی شہر کے ایک معروف کالج میں لائف سائنسز کی لیکچرر ہوں، جہاں میری زندگی کی بظاہر ترتیب، نظم و ضبط اور عالمانہ رعب کے نیچے ایک ایسی ننگی اور سلگتی ہوئی حقیقت چھپی ہے جس کا اعتراف کرتے ہوئے بھی میرا وجود لرز اٹھتا ہے۔
7Please respect copyright.PENANA6eNtCwaUcZ
میں اپنی ذات میں مکمل طور پر اکیلی ہوں، اور یہ تنہائی اب میرے لیے ایک ایسا عذاب بن چکی ہے جسے مٹانے کے لیے میرا ہر عضو ایک تڑپتا ہوا مطالبہ بن کر ابھرتا ہے۔ جب میں کالج کے کوریڈورز میں چلتی ہوں تو میرے جوتوں کی آہٹ اور ساڑھی کی سرسراہٹ میں ایک ایسی جنسیت کا نغمہ ہوتا ہے جو کسی بھی مرد کو اپنے سحر میں قید کرنے کے لیے کافی ہے۔
7Please respect copyright.PENANAc1xJJkw9w3
میری صبحیں کالج کے بلیک بورڈ کے سامنے گزرتی ہیں، جہاں میں خلیوں کی تقسیم کا عمل سمجھاتے ہوئے اپنے وجود کی تقسیم کے دکھ کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتی ہوں۔ ساڑھی کے باریک اور نیم شفاف جارجٹ کے کپڑے کے پیچھے میرا جسم جس طرح سانس لیتا ہے، وہ طالب علموں کی آنکھوں میں ایک ہوسناک چمک پیدا کر دیتا ہے، جسے میں ہر روز محسوس کرتی ہوں۔
7Please respect copyright.PENANA647WdFDmCy
میری کمر کی لچک، میرے جسم کا ہر ایک خم اور میری ہر ایک حرکت کلاس روم کی فضا کو ایک جنسی ہیجان سے بھر دیتی ہے، اور میں خود کو اس معتبر لبادے میں ایک ایسی قید شدہ روح محسوس کرتی ہوں جو اب تمام اخلاقی دیواروں کو پاش پاش کرنے کے لیے بے تاب ہے۔
7Please respect copyright.PENANAlpkturBLqP
شام ہوتے ہی میری زندگی کا اصل رخ سامنے آتا ہے، جب میرے فلیٹ کے پرسکون اور نیم روشن ڈرائنگ روم میں چند لڑکے ٹیوشن پڑھنے آتے ہیں۔ کمرے کے اندر بند اور گرم فضا میں، میرے وجود کی تپش کسی لاوے کی طرح دہک اٹھتی ہے اور میری ریشمی ساڑھی کی رگڑ سے پیدا ہونے والی آواز پورے کمرے میں ایک سنسنی پھیلا دیتی ہے۔
7Please respect copyright.PENANAK7OEcWxW5m
بتیس سال کی یہ عمر میرے وجود کے لیے ایک ایسا بھوکا وقت ہے جس میں شہوت کا ہر لمحہ مجھے ایک بے باک پکار کی طرح اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ میری آواز کا مدہم ہونا اور میرا ان لڑکوں کے بالکل قریب ہو کر بیٹھنا، اصل میں ایک دعوتِ نظارہ ہے جو انہیں میرے جسم کی گہرائیوں میں اتر جانے کا اشارہ دیتی ہے۔
7Please respect copyright.PENANAqtkJ9Vku14
میرے چہرے کے خدوخال فطرت کی ایک ایسی شاہکار تخلیق ہیں جن میں حیا کا پردہ صرف ایک دھوکہ ہے، اصل میں اس کے پیچھے ایک جنونی حیوانی مقناطیسیت چھپی ہے۔ میری مخمور اور نیم وا آنکھیں علم کی باتیں کرتے ہوئے بھی سامنے والے کے جسم میں ایک ایسا ہیجان پیدا کر دیتی ہیں کہ اسے اپنی سانسیں بھی بھاری محسوس ہونے لگتی ہیں۔
7Please respect copyright.PENANAnCbyemxpVi
میرے ہونٹ، جو حد سے زیادہ حسین اور سرخی مائل ہیں، ہر پل ایک بے رحم لمس کے لیے تڑپتے ہیں، اور میری یہ تڑپ ان کچے ذہنوں کو اس طرح پگھلا دیتی ہے کہ وہ میرے سامنے خود کو مکمل طور پر بے بس پاتے ہیں۔
7Please respect copyright.PENANAOrBhLz69qP
کالج کی ساڑھی کے باریک اور چست کپڑے کے نیچے میرا یہ حسین چہرہ ایک دہکتے ہوئے انگارے کی طرح ہے، جس پر پسینے کے ننھے قطرے میری اندرونی آتش کا اشتہار بن کر چمکتے ہیں۔ میری پیشانی کی لکیریں ہوں یا میری پلکوں کا جھکنا، ہر چیز میں ایک ایسی عریانیت ہے جو دیکھنے والے کو میرے وجود کے حصار میں جکڑ لیتی ہے، اور میری ایک ایک نظر اسے اس جنون میں مبتلا کر دیتی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔
7Please respect copyright.PENANA8uboyDr9rm
میرے کالے ریشمی بال جب گردن کے پسینے کو چومتے ہوئے نیچے گرتے ہیں تو وہ میرے جسم کی ننگی سچائی کو اور بھی زیادہ پرکشش اور بھڑکاؤ بنا دیتے ہیں۔
7Please respect copyright.PENANAGZQ2veVpRA
میرا جسم گوشت پوست کا ایک ایسا گداز نمونہ ہے جسے ساڑھی کے چند میٹر کپڑے بھی چھپانے سے قاصر ہیں، بلکہ وہ تو میری ہر حرکت کے ساتھ میری برہنگی کو مزید واضع کر دیتے ہیں۔
7Please respect copyright.PENANAqF9FBxU9kn
جب میں صوفے پر بیٹھتی ہوں تو میرے جسم کے ہر حصے کی گہرائی اور اس کا ابھار ایک ایسا سحر طاری کر دیتا ہے کہ سامنے والے کے لیے نظریں ہٹانا ناممکن ہو جاتا ہے۔
7Please respect copyright.PENANActnfKEIbOf
جب میں ٹیوشن کے دوران کسی لڑکے کی کاپی دیکھنے کے لیے اس کے بالکل قریب جھکتی ہوں، تو میری کمر کا لوچ اور میرے کولہوں کا بھاری اتار چڑھاؤ پورے کمرے میں ایک جنسی موسیقی پیدا کر دیتا ہے۔ میرے سینے کا بھاری اور تیکھا ابھار، جو میری ہر سانس کے ساتھ ساڑھی کے ریشمی پلو کو پھاڑ دینے کے لیے مچلتا ہے، لڑکوں کی سانسوں کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ ان کی نظریں میرے سینے کی اس گہری اور تاریک گھاٹی میں اس طرح ڈوب جاتی ہیں جیسے وہ میری روح کا نہیں بلکہ میری ننگی حقیقت کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔
7Please respect copyright.PENANA2hAS49YND5
میرے ہاتھوں کی نازک اور لمبی انگلیاں جب قلم تھامے ہوئے لرزتی ہیں، تو ان کی یہ حرکت میرے جسم کے اندر سلگنے والی اس بے قابو آگ کا پتا دیتی ہے جو ایک طویل عرصے سے کسی مردانہ لمس کے لیے پیاسی ہے۔ میرے وجود کا ہر ذرہ اس وقت ایک ایسی پکار بن چکا ہے جسے اب کوئی اخلاقی قانون یا کوئی سماجی بندھن خاموش نہیں کر سکتا۔ میں محسوس کرتی ہوں کہ یہ لڑکے میری ہر حرکت کے ساتھ اپنے حواس کھو رہے ہیں، اور میں انہیں اپنے اس جنون میں شامل کر کے اپنی برسوں کی پیاس کو بجھانے کے لیے بے قرار ہوں۔
7Please respect copyright.PENANA74ptO9ay0E
میرے جسم کا جوڑ توڑ ایک ایسی ننگی اور حیوانی جرات کی عکاسی کرتا ہے جو میرے معتبر پیشے کے تمام تقدس کو مٹی میں ملا دینے پر آمادہ ہے۔ میری ہر ایک جنبش میں ایک ایسا طوفان ہے جو میرے پیروں کی دھیمی آہٹ اور ریشمی کپڑوں کی سرسراہٹ کے ساتھ مل کر ماحول کو ایک انتہائی شہوت انگیز اور بوجھل کیفیت میں بدل دیتا ہے۔ اس سنجیدہ لیکچرر کے لبادے کے پیچھے ایک ایسی بے باک عورت چھپی ہے جو اب کسی بھی قسم کی شرم و حیا کے بغیر خود کو اس آگ کے حوالے کر دینا چاہتی ہے جو اس کے اندر سالوں سے پل رہی ہے۔
7Please respect copyright.PENANAoStFsJUyK9
میرا جی چاہتا ہے کہ میں ان لڑکوں کے سامنے اپنے تمام لباس کے بندھن کھول کر رکھ دوں، تاکہ وہ میری اس حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں جو سالوں سے کسی مرد کے لمس کی منتظر تھی۔ میرے جسم کا ہر انگ، میری رانوں کی سختی، میرے سینے کا تناؤ اور میری ناف کی گہرائی، سب کچھ اس وقت ایک جنونی پکار ہے جس میں صرف ایک ہی جذبہ ہے، اور وہ ہے تسخیر اور لذت کا حصول، مگر یہ داستان وہاں سے شروع کروں گی جب پہلی بار میرے کزن نے مجھے ممنوعہ لذت کا ذائقہ چکھایا تھا۔7Please respect copyright.PENANAKYxDAw4YsN


